کلامِ میرردیف ی

کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کی

۱

کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کیدھوم ہے پھر بہار آنے کی

۲

دل کا اس کنج لب سے دے ہے نشاںبات لگتی تو ہے ٹھکانے کی

۳

وہ جو پھرتا ہے مجھ سے دور ہی دورہے یہ تقریب جی کے جانے کی

۴

تیز یوں ہی نہ تھی شب آتش شوقتھی خبر گرم اس کے آنے کی

۵

خضر اس خط سبز پر تو موادھن ہے اب اپنے زہر کھانے کی

۶

دل صد چاک باب زلف ہے لیکباؤ سی بندھ رہی ہے شانے کی

۷

کسو کم ظرف نے لگائی آہتجھ سے مے خانے کے جلانے کی

۸

ورنہ اے شیخ شہر واجب تھیجام داری شراب خانے کی

۹

جو ہے سو پائمال غم ہے میرؔچال بے ڈول ہے زمانے کی

۲۴۵ / ۵۸۲