کلامِ میرردیف ی
کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کی
۱
کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کیاس ماہرو کے آگے کیا تاب مشتری کی
۲
رکھنا نہ تھا قدم یاں جوں باد بے تاملسیر اس جہاں کی رہرو پر تو نے سرسری کی
۳
شبہا بحال سگ میں اک عمر صرف کی ہےمت پوچھ ان نے مجھ سے جو آدمی گری کی
۴
پائے گل اس چمن میں چھوڑا گیا نہ ہم سےسر پر ہمارے اب کے منت ہے بے پری کی
۵
پیشہ تو ایک ہی تھا اس کا ہمارا لیکنمجنوں کے طالعوں نے شہرت میں یاوری کی
۶
گریے سے داغ سینہ تازہ ہوئے ہیں سارےیہ کشت خشک تو نے اے چشم پھر ہری کی
۷
یہ دور تو موافق ہوتا نہیں مگر ابرکھیے بنائے تازہ اس چرخ چنبری کی
۸
خوباں تمہاری خوبی تا چند نقل کریےہم رنجہ خاطروں کی کیا خوب دلبری کی
۹
ہم سے جو میرؔ اڑ کر افلاک چرخ میں ہیںان خاک میں ملوں کی کاہے کو ہمسری کی
۲۴۶ / ۵۸۲