کلامِ میرردیف ی

کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئی

۱

کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئیدو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئی

۲

کن کن مصیبتوں سے ہوئی صبح شام ہجرسو زلفیں ہی بناتے اسے رات ہو گئی

۳

گردش نگاہ مست کی موقوف ساقیامسجد تو شیخ جی کی خرابات ہو گئی

۴

ڈر ظلم سے کہ اس کی جزا بس شتاب ہےآیا عمل میں یاں کہ مکافات ہو گئی

۵

خورشید سا پیالۂ مے بے طلب دیاپیر مغاں سے رات کرامات ہو گئی

۶

کتنا خلاف وعدہ ہوا ہوگا وہ کہ یاںنومیدی و امید مساوات ہو گئی

۷

آ شیخ گفتگوے پریشاں پہ تو نہ جامستی میں اب تو قبلۂ حاجات ہو گئی

۸

ٹک شہر سے نکل کے مرا گریہ سیر کرگویا کہ کوہ و دشت پہ برسات ہو گئی

۹

دیدار کی گرسنگی اپنی یہیں سے دیکھاک ہی نگاہ یاروں کی اوقات ہو گئی

۱۰

اپنے تو ہونٹ بھی نہ ہلے اس کے روبرورنجش کی وجہ میرؔ وہ کیا بات ہو گئی

۲۴۷ / ۵۸۲