کلامِ میرردیف ی

کل میرؔ نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابی

۱

کل میرؔ نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابیآخر کو گرو رکھا سجادۂ محرابی

۲

جاگا ہے کہیں وہ بھی شب مرتکب مے ہویہ بات سجھاتی ہے ان آنکھوں کی بے خوابی

۳

کیا شہر میں گنجائش مجھ بے سر و پا کو ہواب بڑھ گئے ہیں میرے اسباب کم اسبابی

۴

دن رات مری چھاتی جلتی ہے محبت میںکیا اور نہ تھی جاگا یہ آگ جو یاں دابی

۵

سو ملک پھرا لیکن پائی نہ وفا اک جاجی کھا گئی ہے میرا اس جنس کی نایابی

۶

خوں بستہ نہ کیوں پلکیں ہر لحظہ رہیں میریجاتے نہیں آنکھوں سے لب یار کے عنابی

۷

جنگل ہی ہرے تنہا رونے سے نہیں میرےکوہوں کی کمر تک بھی جا پہنچی ہے سیرابی

۸

تھے ماہ وشاں کل جو ان کوٹھوں پہ جلوے میںہے خاک سے آج ان کی ہر صحن میں مہتابی

۹

کل میرؔ جو یاں آیا طور اس کا بہت بھایاوہ خشک لبی تس پر جامہ گلے میں آبی

۲۴۸ / ۵۸۲