کلامِ میرردیف ی
کیا کروں شرح خستہ جانی کی
۱
کیا کروں شرح خستہ جانی کیمیں نے مر مر کے زندگانی کی
۲
حال بد گفتنی نہیں میراتم نے پوچھا تو مہربانی کی
۳
سب کو جانا ہے یوں تو پر اے صبرآتی ہے اک تری جوانی کی
۴
تشنہ لب مر گئے ترے عاشقنہ ملی ایک بوند پانی کی
۵
بیت بحثی سمجھ کے کر بلبلدھوم ہے میری خوش زبانی کی
۶
جس سے کھوئی تھی نیند میرؔ نے کلابتدا پھر وہی کہانی کی
۲۴۹ / ۵۸۲