کلامِ میرردیف ی

گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئی

۱

گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئیرشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئی

۲

کب تلک داغ دکھاوے گی اسیری مجھ کومر گئے ساتھ کے میرے تو گرفتار کئی

۳

وے ہی چالاکیاں ہاتھوں کی ہیں جو اول تھیںاب گریباں میں مرے رہ گئے ہیں تار کئی

۴

خوف تنہائی نہیں کر تو جہاں سے تو سفرہر جگہ راہ عدم میں ملیں گے یار کئی

۵

اضطراب و قلق و ضعف میں کس طور جیوںجان واحد ہے مری اور ہیں آزار کئی

۶

کیوں نہ ہوں خستہ بھلا میں کہ ستم کے تیرےتیر ہیں پار کئی وار ہیں سوفار کئی

۷

اپنے کوچے میں نکلیو تو سنبھالے دامنیادگار مژۂ میرؔ ہیں واں خار کئی

۲۵۰ / ۵۸۲