کلامِ میرردیف ی

گئی چھاؤں اس تیغ کی سر سے جب کی

۱

گئی چھاؤں اس تیغ کی سر سے جب کیجلے دھوپ میں یاں تلک ہم کہ تب کی

۲

پڑی خرمن گل پہ بجلی سی آخرمرے خوش نگہ کی نگاہ اک غضب کی

۳

کوئی بات نکلے ہے دشوار منہ سےٹک اک تو بھی تو سن کسی جاں بہ لب کی

۴

تو شملہ جو رکھتا ہے خر ہے وگرنہضرورت ہے کیا شیخ دم اک وجب کی

۵

یکایک بھی آ سر پہ واماندگاں کےبہت دیکھتے ہیں تری راہ کب کی

۶

دماغ و جگر دل مخالف ہوئے ہیںہوئی متفق اب ادھر رائے سب کی

۷

تجھے کیونکے ڈھونڈوں کہ سوتے ہی گزریتری راہ میں اپنے پیے طلب کی

۸

دل عرش سے گزرے ہے ضعف میں بھییہ زور آوری دیکھو زاری شب کی

۹

عجب کچھ ہے گر میرؔ آوے میسرگلابی شراب اور غزل اپنے ڈھب کی

۲۵۱ / ۵۸۲