کلامِ میرردیف ی

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

۱

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کیہم نے بھی طبع آزمائی کی

۲

اس کے ایفائے عہد تک نہ جیےعمر نے ہم سے بے وفائی کی

۳

وصل کے دن کی آرزو ہی رہیشب نہ آخر ہوئی جدائی کی

۴

اسی تقریب اس گلی میں رہےمنتیں ہیں شکستہ پائی کی

۵

دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیرآہ نے آہ نارسائی کی

۶

کاسۂ چشم لے کے جوں نرگسہم نے دیدار کی گدائی کی

۷

زور و زر کچھ نہ تھا تو بار میرؔکس بھروسے پر آشنائی کی

۲۵۲ / ۵۸۲