کلامِ میرردیف ی
یار نے ہم سے بے ادائی کی
۱
یار نے ہم سے بے ادائی کیوصل کی رات میں لڑائی کی
۲
بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھاب توقع نہیں رہائی کی
۳
کلفت رنج عشق کم نہ ہوئیمیں دوا کی بہت شفائی کی
۴
طرفہ رفتار کے ہیں رفتہ سبدھوم ہے اس کی رہ گرائی کی
۵
خندۂ یار سے طرف ہو کربرق نے اپنی جگ ہنسائی کی
۶
کچھ مروت نہ تھی ان آنکھوں میںدیکھ کر کیا یہ آشنائی کی
۷
وصل کے دن کو کار جاں نہ کھنچاشب نہ آخر ہوئی جدائی کی
۸
منہ لگایا نہ دختر رز کومیں جوانی میں پارسائی کی
۹
جور اس سنگ دل کے سب نہ کھنچےعمر نے سخت بے وفائی کی
۱۰
کوہ کن کیا پہاڑ توڑے گاعشق نے زور آزمائی کی
۱۱
چپکے اس کی گلی میں پھرتے رہےدیر واں ہم نے بے نوائی کی
۱۲
اک نگہ میں ہزار جی مارےساحری کی کہ دل ربائی کی
۱۳
نسبت اس آستاں سے کچھ نہ ہوئیبرسوں تک ہم نے جبہہ سائی کی
۱۴
میرؔ کی بندگی میں جاں بازیسیر سی ہو گئی خدائی کی
۲۵۳ / ۵۸۲