کلامِ میرردیف ی

یکسو کشادہ روی پر چیں نہیں جبیں بھی

۱

یکسو کشادہ روی پر چیں نہیں جبیں بھیہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی

۲

آنسو تو تیرے دامن پونچھے ہے وقت گریہہم نے نہ رکھی منہ پر اے ابر آستیں بھی

۳

کرتا نہیں عبث تو پارہ گلو فغاں سےگزرے ہے پار دل کے اک نالۂ حزیں بھی

۴

ہوں اہتزار میں میں آئینہ رو شتاب آجاتا ہے ورنہ غافل پھر دم تو واپسیں بھی

۵

سینے سے تیر اس کا جی کو تو لیتا نکلاپر ساتھوں ساتھ اس کے نکلی اک آفریں بھی

۶

ہر شب تری گلی میں عالم کی جان جا ہےآگے ہوا ہے اب تک ایسا ستم کہیں بھی

۷

شوخی جلوہ اس کی تسکین کیونکے بخشےآئینوں میں دلوں کے جو ہے بھی پھر نہیں بھی

۸

گیسو ہی کچھ نہیں ہے سنبل کی آفت اس کاہیں برق خرمن گل رخسار آتشیں بھی

۹

تکلیف نالہ مت کر اے درد دل کہ ہوں گےرنجیدہ راہ چلتے آزردہ ہم نشیں بھی

۱۰

کس کس کا داغ دیکھیں یا رب غم بتاں میںرخصت طلب ہے جاں بھی ایمان اور دیں بھی

۱۱

زیر فلک جہاں ٹک آسودہ میرؔ ہوتےایسا نظر نہ آیا اک قطعۂ زمیں بھی

۲۵۵ / ۵۸۲