کلامِ میرردیف ی
یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کی
۱
یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کینظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی
۲
سحر پائے گل بے خودی ہم کو آئیکہ اس سست پیماں میں بو تھی کسو کی
۳
یہ سرگشتہ جب تک رہا اس چمن میںبرنگ صبا جستجو تھی کسو کی
۴
نہ ٹھہری ٹک اک جان بر لب رسیدہہمیں مدعا گفتگو تھی کسو کی
۵
جلایا شب اک شعلۂ دل نے ہم کوکہ اس تند سرکش میں خو تھی کسو کی
۶
نہ تھے تجھ سے نازک میانان گلشنبہت تو کمر جیسے مو تھی کسو کی
۷
دم مرگ دشوار دی جان ان نےمگر میرؔ کو آرزو تھی کسو کی
۲۵۶ / ۵۸۲