کلامِ میرردیف د
آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
۱
آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعدابھریں گے عشق دل سے ترے راز میرے بعد
۲
جینا مرا تو تجھ کو غنیمت ہے نا سمجھکھینچے گا کون پھر یہ ترے ناز میرے بعد
۳
شمع مزار اور یہ سوز جگر مراہر شب کریں گے زندگی ناساز میرے بعد
۴
حسرت ہے اس کے دیکھنے کی دل میں بے قیاساغلب کہ میری آنکھیں رہیں باز میرے بعد
۵
کرتا ہوں میں جو نالے سرانجام باغ میںمنہ دیکھو پھر کریں گے ہم آواز میرے بعد
۶
بن گل موا ہی میں تو پہ تو جا کے لوٹیوصحن چمن میں اے پر پرواز میرے بعد
۷
بیٹھا ہوں میرؔ مرنے کو اپنے میں مستعدپیدا نہ ہوں گے مجھ سے بھی جانباز میرے بعد
۱۳۲ / ۵۸۲