کلامِ میرردیف د
بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد
۱
بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعدسو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد
۲
جدائی کے حالات میں کیا کہوںقیامت تھی ایک ایک ساعت کے بعد
۳
موا کوہ کن بے ستوں کھود کریہ راحت ہوئی ایسی محنت کے بعد
۴
لگا آگ پانی کو دوڑے ہے تویہ گرمی تری اس شرارت کے بعد
۵
کہے کو ہمارے کب ان نے سناکوئی بات مانی سو منت کے بعد
۶
سخن کی نہ تکلیف ہم سے کرولہو ٹپکے ہے اب شکایت کے بعد
۷
نظر میرؔ نے کیسی حسرت سے کیبہت روئے ہم اس کی رخصت کے بعد
۱۳۳ / ۵۸۲