کلامِ میرردیف د
اے گل نو دمیدہ کے مانند
۱
اے گل نو دمیدہ کے مانندہے تو کس آفریدہ کے مانند
۲
ہم امید وفا پہ تیری ہوئےغنچۂ دیر چیدہ کے مانند
۳
خاک کو میری سیر کر کے پھراوہ غزال رمیدہ کے مانند
۴
سر اٹھاتے ہی ہو گئے پامالسبزۂ نو دمیدہ کے مانند
۵
نہ کٹے رات ہجر کی جو نہ ہونالہ تیغ کشیدہ کے مانند
۶
ہم گرفتار حال ہیں اپنےطائر پر بریدہ کے مانند
۷
دل تڑپتا ہے اشک خونیں میںصید در خوں تپیدہ کے مانند
۸
تجھ سے یوسف کو کیونکے نسبت دیںکب شنیدہ ہو دیدہ کے مانند
۹
میرؔ صاحب بھی اس کے ہاں تھے لیکبندۂ زر خریدہ کے مانند
۱۳۴ / ۵۸۲