کلامِ میرردیف د
لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شاید
۱
لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شایدبگڑے تھے کچھ سنور گئے شاید
۲
سب پریشاں دلی میں شب گزریبال اس کے بکھر گئے شاید
۳
کچھ خبر ہوتی تو نہ ہوتی خبرصوفیاں بے خبر گئے شاید
۴
ہیں مکان و سرا و جا خالییار سب کوچ کر گئے شاید
۵
آنکھ آئینہ رو چھپاتے ہیںدل کو لے کر مکر گئے شاید
۶
لوہو آنکھوں میں اب نہیں آتازخم اب دل کے بھر گئے شاید
۷
اب کہیں جنگلوں میں ملتے نہیںحضرت خضر مر گئے شاید
۸
بے کلی بھی قفس میں ہے دشوارکام سے بال و پر گئے شاید
۹
شور بازار سے نہیں اٹھتارات کو میرؔ گھر گئے شاید
۱۳۵ / ۵۸۲