کلامِ میرردیف د
میرے سنگ مزار پر فرہاد
میرے سنگ مزار پر فرہادرکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد
ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملالجان کے ساتھ ہے دل ناشاد
موند آنکھیں سفر عدم کا کربس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد
فکر تعمیر میں نہ رہ منعمزندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد
خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیںکس خرابے میں ہم ہوئے آباد
سنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعدنہ سنوگے یہ نالہ و فریاد
لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیمخاک کس دل جلے کی برباد
بھولا جائے ہے غم بتاں میں جیغرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد
تیرے قید قفس کا کیا شکوہنالے اپنے سے اپنے سے فریاد
ہر طرف ہیں اسیر ہم آوازباغ ہے گھر ترا تو اے صیاد
ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیںاپنی قید حیات سے آزاد
ایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبحجانا سو جائے اس کی ہے معتاد
نہیں صورت پذیر نقش اس کایوں ہی تصدیق کھینچے ہے بہزاد
خوب ہے خاک سے بزرگوں کیچاہنا تو مرے تئیں امداد
پر مروت کہاں کی ہے اے میرؔتو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد
نامرادی ہو جس پہ پروانہوہ جلاتا پھرے چراغ مراد
۱۳۶ / ۵۸۲