کلامِ میرردیف ر
جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر
۱
جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کرکس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر
۲
تھی جملہ تن لطافت عالم میں جاں کے ہم تومٹی میں اٹ گئے ہیں اس خاکداں میں آ کر
۳
سعی و طلب بہت کی مطلب کے تئیں نہ پہنچےناچار اب جہاں سے بیٹھے ہیں ہاتھ اٹھا کر
۴
غیرت یہ تھی کہ آیا اس سے جو میں خفا ہومرتے موا پہ ہرگز اودھر پھرا نہ جا کر
۵
قدرت خدا کی سب میں خلع العذار آؤبیٹھو جو مجھ کنے تو پردے میں منہ چھپا کر
۶
ارمان ہے جنہوں کو وے اب کریں محبتہم تو ہوئے پشیماں دل کے تئیں لگا کر
۷
میں میرؔ ترک لے کر دنیا سے ہاتھ اٹھایادرویش تو بھی تو ہے حق میں مرے دعا کر
۱۳۷ / ۵۸۲