کلامِ میرردیف گ

جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگ

۱

جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگتب سے لٹتی ہے ہند چاروں دانگ

۲

بات عمل کی چلی ہی جاتی ہےہے مگر اوج بن عنق کی ٹانگ

۳

بن جو کچھ بن سکے جوانی میںرات تو تھوڑی ہے بہت ہے سانگ

۴

عشق کا شور کوئی چھپتا ہےنالۂ عندلیب ہے گلبانگ

۵

اس ذقن میں بھی سبزی ہے خط کیدیکھو جیدھر کنوئیں پڑی ہے بھانگ

۶

کس طرح ان سے کوئی گرم ملےسیم تن پگھلے جاتے ہیں جوں رانگ

۷

چلی جاتی ہے حسب قدر بلنددور تک اس پہاڑ کی ہے ڈانگ

۸

تفرہ باطل تھا طور پر اپنےورنہ جاتے یہ دوڑ ہم بھی پھلانگ

۹

میں نے کیا اس غزل کو سہل کیاقافیے ہی تھے اس کے اوٹ پٹانگ

۱۰

میرؔ بندوں سے کام کب نکلامانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ

۱۵۸ / ۵۸۲