کلامِ میرردیف ہ

جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ

۱

جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

۲

اب کیسا چاک چاک ہو دل اس کے ہجر میںگتھواں تو لخت دل سے نکلتی ہے میری آہ

۳

شام شب وصال ہوئی یاں کہ اس طرفہونے لگا طلوع ہی خورشید رو سیاہ

۴

گزرا میں اس سلوک سے دیکھا نہ کر مجھےبرچھی سی لاگ جا ہے جگر میں تری نگاہ

۵

دامان و جیب چاک خرابی و خستگیان سے ترے فراق میں ہم نے کیا نباہ

۶

بیتابیوں کو سونپ نہ دینا کہیں مجھےاے صبر میں نے آن کے لی ہے تری پناہ

۷

خوں بستہ بارے رہنے لگی اب تو یہ مژہآنسو کی بوند جس سے ٹپکتی تھی گاہ گاہ

۸

گل سے شگفتہ داغ دکھاتا ہوں تیرے تیںگر موافقت کرے ہے تنک مجھ سے سال و ماہ

۹

گر منع مجھ کو کرتے ہیں تیری گلی سے لوگکیوں کر نہ جاؤں مجھ کو تو مرنا ہے خوا مخواہ

۱۰

ناحق الجھ پڑا ہے یہ مجھ سے طریق عشقجاتا تھا میرؔ میں تو چلا اپنی راہ راہ

۲۲۵ / ۵۸۲