کلامِ میرردیف و
گرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھو
۱
گرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھوآرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو
۲
عشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہےآہ تم بھی تو اک نظر دیکھو
۳
یوں عرق جلوہ گر ہے اس منہ پرجس طرح اوس پھول پر دیکھو
۴
ہر خراش جبیں جراحت ہےناخن شوق کا ہنر دیکھو
۵
تھی ہمیں آرزو لب خنداںسو عوض اس کے چشم تر دیکھو
۶
رنگ رفتہ بھی دل کو کھینچے ہےایک شب اور یاں سحر دیکھو
۷
دل ہوا ہے طرف محبت کاخون کے قطرے کا جگر دیکھو
۸
پہنچے ہیں ہم قریب مرنے کےیعنی جاتے ہیں دور اگر دیکھو
۹
لطف مجھ میں بھی ہیں ہزاروں میرؔدیدنی ہوں جو سوچ کر دیکھو
۲۲۴ / ۵۸۲