کلامِ میرردیف ہ
دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ
۱
دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہشیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ
۲
شیشہ بازی تو تنک دیکھنے آ آنکھوں کیہر پلک پر مرے اشکوں سے رواں ہے شیشہ
۳
رو سفیدی ہے نقاب رخ شور مستیریش قاضی کے سبب پنبہ دہاں ہے شیشہ
۴
منزل مستی کو پہنچے ہے انہیں سے عالمنشۂ مے بلد و سنگ نشاں ے شیشہ
۵
درمیاں حلقۂ مستاں کے شب اس کی جا تھیدور ساغر میں مگر پیر مغاں ہے شیشہ
۶
جا کے پوچھا جو میں یہ کارگہ مینا میںدل کی صورت کا بھی اے شیشہ گراں ہے شیشہ
۷
کہنے لاگے کہ کدھر پھرتا ہے بہکا اے مستہر طرح کا جو تو دیکھے ہے کہ یاں ہے شیشہ
۸
دل ہی سارے تھے پہ اک وقت میں جو کر کے گدازشکل شیشے کی بنائے ہیں کہاں ہے شیشہ
۹
جھک گیا دیکھ کے میں میرؔ اسے مجلس میںچشم بد دور طرحدار جواں ہے شیشہ
۲۲۶ / ۵۸۲