کلامِ میرردیف ہ

کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ

۱

کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھجی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ

۲

رات مجلس میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکےجیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ

۳

مر گئے پر بھی کھلی رہ گئیں آنکھیں اپنیکون اس طرح موا حسرت دیدار کے ساتھ

۴

شوق کا کام کھنچا دور کہ اب مہر مثالچشم مشتاق لگی جائے ہے طومار کے ساتھ

۵

راہ اس شوخ کی عاشق سے نہیں رک سکتیجان جاتی ہے چلی خوبی رفتار کے ساتھ

۶

وے دن اب سالتے ہیں راتوں کو برسوں گزرےجن دنوں دیر رہا کرتے تھے ہم یار کے ساتھ

۷

ذکر گل کیا ہے صبا اب کہ خزاں میں ہم نےدل کو ناچار لگایا ہے خس و خار کے ساتھ

۸

کس کو ہر دم ہے لہو رونے کا ہجراں میں دماغدل کو اک ربط سا ہے دیدۂ خوں بار کے ساتھ

۹

میری اس شوخ سے صحبت ہے بعینہ ویسیجیسے بن جائے کسو سادے کو عیار کے ساتھ

۱۰

دیکھیے کس کو شہادت سے سرافراز کریںلاگ تو سب کو ہے اس شوخ کی تلوار کے ساتھ

۱۱

بیکلی اس کی نہ ظاہر تھی جو تو اے بلبلدم کش میرؔ ہوئی اس لب و گفتار کے ساتھ

۲۲۷ / ۵۸۲