کلامِ میرردیف ہ

ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ

۱

ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہوہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ

۲

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہماب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

۳

بود آدم نمود شبنم ہےایک دو دم میں پھر ہوا ہے یہ

۴

شکر اس کی جفا کا ہو نہ سکادل سے اپنے ہمیں گلہ ہے یہ

۵

شور سے اپنے حشر ہے پردہیوں نہیں جانتا کہ کیا ہے یہ

۶

بس ہوا ناز ہو چکا اغماضہر گھڑی ہم سے کیا ادا ہے یہ

۷

نعشیں اٹھتی ہیں آج یاروں کیآن بیٹھو تو خوش نما ہے یہ

۸

دیکھ بے دم مجھے لگا کہنےہے تو مردہ سا پر بلا ہے یہ

۹

میں تو چپ ہوں وہ ہونٹ چاٹے ہےکیا کہوں ریجھنے کی جا ہے یہ

۱۰

ہے رے بیگانگی کبھو ان نےنہ کہا یہ کہ آشنا ہے یہ

۱۱

تیغ پر ہاتھ دم بہ دم کب تکاک لگا چک کہ مدعا ہے یہ

۱۲

میرؔ کو کیوں نہ مغتنم جانےاگلے لوگوں میں اک رہا ہے یہ

۲۲۸ / ۵۸۲