کلامِ میرردیف ج

آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آج

۱

آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آجشاید بگڑ گئی ہے کچھ اس بے وفا سے آج

۲

واشد ہوئی نہ دل کو فقیروں کے بھی ملےکھلتی نہیں گرہ یہ کسو کی دعا سے آج

۳

جینے میں اختیار نہیں ورنہ ہم نشیںہم چاہتے ہیں موت تو اپنی خدا سے آج

۴

ساقی ٹک ایک موسم گل کی طرف بھی دیکھٹپکا پڑے ہے رنگ چمن میں ہوا سے آج

۵

تھا جی میں اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میرؔپر کچھ کہا گیا نہ غم دل حیا سے آج

۱۲۸ / ۵۸۲