کلامِ میرردیف ک

شوق ہے تو ہے اس کا گھر نزدیک

۱

شوق ہے تو ہے اس کا گھر نزدیکدوری رہ ہے راہ بر نزدیک

۲

آہ کرنے میں دم کو سادھے رہکہتے ہیں دل سے ہے جگر نزدیک

۳

دور والوں کو بھی نہ پہنچے ہمیہی نہ تم سے ہیں مگر نزدیک

۴

ڈوبیں دریا و کوہ و شہر و دشتتجھ سے سب کچھ ہے چشم تر نزدیک

۵

حرف دوری ہے گرچہ انشا لیکدیجو خط جا کے نامہ بر نزدیک

۶

دور اب بیٹھتے ہیں مجلس میںہم جو تم سے تھے بیشتر نزدیک

۷

خبر آتی ہے سو بھی دور سے یاںآؤ یک بار بے خبر نزدیک

۸

توشۂ آخرت کا فکر رہےجی سے جانے کا ہے سفر نزدیک

۹

دور پھرنے کا ہم سے وقت گیاپوچھ کچھ حال بیٹھ کر نزدیک

۱۰

مر بھی رہ میرؔ شب بہت رویاہے مری جان اب سحر نزدیک

۱۵۴ / ۵۸۲