وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک
جب سے لگی ہیں آنکھیں کھلی راہ تکے ہیںسوئے نہیں ساتھ اس کے کبھو پیار سے اب تک
About this couplet
This is couplet 3 of 7 in “وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک” in the section Ghazals — Radeef Kaaf, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۳ / ۷