وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک
آیا تھا کبھو یار سو معمول ہم اس کےبستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے اب تک
About this couplet
This is couplet 4 of 7 in “وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک” in the section Ghazals — Radeef Kaaf, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۴ / ۷