کلامِ میرردیف ک
کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک
۱
کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تککہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تک
۲
کچھ اپنی آنکھ میں یاں کا نہ آیاخذف سے لے کے دیکھا در تر تک
۳
جسے شب آگ سا دیکھا سلگتےاسے پھر خاک ہی پایا سحر تک
۴
ترا منہ چاند سا دیکھا ہے شایدکہ انجم رہتے ہیں ہر شب ادھر تک
۵
جب آیا آہ تب اپنے ہی سر پرگیا یہ ہاتھ کب اس کی کمر تک
۶
ہم آوازوں کو سیر اب کی مبارکپر و بال اپنے بھی ایسے تھے پر تک
۷
کھنچی کیا کیا خرابی زیر دیوارولے آیا نہ وہ ٹک گھر سے در تک
۸
گلی تک تیری لایا تھا ہمیں شوقکہاں طاقت کہ اب پھر جائیں گھر تک
۹
یہی درد جدائی ہے جو اس شبتو آتا ہے جگر مژگان تر تک
۱۰
دکھائی دیں گے ہم میت کے رنگوںاگر رہ جائیں گے جیتے سحر تک
۱۱
کہاں پھر شور شیون جب گیا میرؔیہ ہنگامہ ہے اس ہی نوحہ گر تک
۱۵۶ / ۵۸۲