کلامِ میرردیف ل
فصل خزاں میں سیر جو کی ہم نے جائے گل
۱
فصل خزاں میں سیر جو کی ہم نے جائے گلچھانی چمن کی خاک نہ تھا نقش پائے گل
۲
اللہ رے عندلیب کی آواز دل خراشجی ہی نکل گیا جو کہا ان نے ہائے گل
۳
مقدور تک شراب سے رکھ انکھڑیوں میں رنگیہ چشمک پیالہ ہے ساقی ہوائے گل
۴
یہ دیکھ سینہ داغ سے رشک چمن ہے یاںبلبل ستم ہوا نہ جو تو نے بھی کھائے گل
۵
بلبل ہزار جی سے خریدار اس کی ہےاے گل فروش کریو سمجھ کر بہائے گل
۶
نکلا ہے ایسی خاک سے کس سادہ رو کی یہقابل درود بھیجنے کے ہے صفائے گل
۷
بارے سرشک سرخ کے داغوں سے رات کوبستر پر اپنے سوتے تھے ہم بھی بچھائے گل
۸
آ عندلیب صلح کریں جنگ ہو چکیلے اے زباں دراز تو سب کچھ سوائے گل
۹
گلچیں سمجھ کے چنیو کہ گلشن میں میرؔ کےلخت جگر پڑے ہیں نہیں برگ ہائے گل
۱۶۰ / ۵۸۲