کلامِ میرردیف ل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

۱

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیالپرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

۲

مشکل ہے مٹ گئے ہوئے نقشوں کی پھر نمودجو صورتیں بگڑ گئیں ان کا نہ کر خیال

۳

مو کو عبث ہے تاب کلی یوں ہی تنگ ہےاس کا دہن ہے وہم و گمان و کمر خیال

۴

رخسار پر ہمارے ڈھلکنے کو اشک کےدیکھے ہے جو کوئی سو کرے ہے گہر خیال

۵

کس کو دماغ شعر و سخن ضعف میں کہ میرؔاپنا رہے ہے اب تو ہمیں بیشتر خیال

۱۶۱ / ۵۸۲