کلامِ میرردیف م

اگر راہ میں اس کی رکھا ہے گام

۱

اگر راہ میں اس کی رکھا ہے گامگئے گزرے خضر علیہ السلام

۲

دہن یار کا دیکھ چپ لگ گئیسخن یاں ہوا ختم حاصل کلام

۳

مجھے دیکھ منہ پر پریشاں کی زلفغرض یہ کہ جا تو ہوئی اب تو شام

۴

سر شام سے رہتی ہیں کاہشیںہمیں شوق اس ماہ کا ہے تمام

۵

قیامت ہی یاں چشم و دل سے رہیچلے بس تو واں جا کے کریے قیام

۶

نہ دیکھے جہاں کوئی آنکھوں کی اورنہ لیوے کوئی جس جگہ دل کا نام

۷

جہاں میرؔ زیر و زبر ہو گیاخراماں ہوا تھا وہ محشر خرام

۱۶۲ / ۵۸۲