کلامِ میرردیف م

جانا کہ شغل رکھتے ہو تیر و کماں سے تم

۱

جانا کہ شغل رکھتے ہو تیر و کماں سے تمپر مل چلا کرو بھی کسو خستہ جاں سے تم

۲

ہم اپنی چاک جیب کو سی رہتے یا نہیںپھاٹے میں پاؤں دینے کو آئے کہاں سے تم

۳

اب دیکھتے ہیں خوب تو وہ بات ہی نہیںکیا کیا وگرنہ کہتے تھے اپنی زباں سے تم

۴

تنکے بھی تم ٹھہرتے کہیں دیکھے ہیں تنکچشم وفا رکھو نہ خسان جہاں سے تم

۵

جاؤ نہ دل سے منظر تن میں ہے جا یہیپچھتاؤ گے اٹھوگے اگر اس مکاں سے تم

۶

قصہ مرا سنو گے تو جاتی رہے گی نیندآرام چشم مت رکھو اس داستاں سے تم

۷

کھل جائیں گی پھر آنکھیں جو مر جائے گا کوئیآتے نہیں ہو باز مرے امتحاں سے تم

۸

جتنے تھے کل تم آج نہیں پاتے اتنا ہمہر دم چلے ہی جاتے ہو آب رواں سے تم

۹

رہتے نہیں ہو بن گئے میرؔ اس گلی میں راتکچھ راہ بھی نکالو سگ و پاسباں سے تم

۱۶۳ / ۵۸۲