کلامِ میرردیف م
نہ پھر رکھیں گے تیری رہ میں پا ہم
۱
نہ پھر رکھیں گے تیری رہ میں پا ہمگئے گزرے ہیں آخر ایسے کیا ہم
۲
کھنچے گی کب وہ تیغ ناز یا ربرہے ہیں دیر سے سر کو جھکا ہم
۳
نہ جانا یہ کہ کہتے ہیں کسے پیاررہیں بے لطفیاں ہی یاں تو باہم
۴
بنے کیا خال و زلف و خط سے دیکھیںہوئے ہیں کتنے یہ کافر فراہم
۵
مرض ہی عشق کا بے ڈول ہے کچھبہت کرتے ہیں اپنی سی دوا ہم
۶
کہیں پیوند ہوں یا رب زمیں کےپھریں گے اس سے یوں کب تک جدا ہم
۷
ہوس تھی عشق کرنے میں ولیکنبہت نادم ہوئے دل کو لگا ہم
۸
کب آگے کوئی مرتا تھا کسی پرجہاں میں کر گئے رسم وفا ہم
۹
تعارف کیا رہا اہل چمن سےہوئے اک عمر کے پیچھے رہا ہم
۱۰
موا جس کے لئے اس کو نہ دیکھانہ سمجھے میرؔ کا کچھ مدعا ہم
۱۶۴ / ۵۸۲