کلامِ میرردیف م

کیا بلبل اسیر ہے بے بال و پر کہ ہم

۱

کیا بلبل اسیر ہے بے بال و پر کہ ہمگل کب رکھے ہے ٹکڑے جگر اس قدر کہ ہم

۲

خورشید صبح نکلے ہے اس نور سے کہ توشبنم گرہ میں رکھتی ہے یہ چشم تر کہ ہم

۳

جیتے ہیں تو دکھا دیں گے دعواے عندلیبگل بن خزاں میں اب کے وہ رہتی ہے مر کہ ہم

۴

یہ تیغ ہے یہ طشت ہے یہ ہم ہیں کشتنیکھیلے ہے کون ایسی طرح جان پر کہ ہم

۵

تلواریں تم لگاتے ہو ہم ہیں گے دم بخوددنیا میں یہ کرے ہے کوئی درگزر کہ ہم

۶

اس جستجو میں اور خرابی تو کیا کہیںاتنی نہیں ہوئی ہے صبا در بہ در کہ ہم

۷

جب جا پھنسا کہیں تو ہمیں یاں ہوئی خبررکھتا ہے کون دل تری اتنی خبر کہ ہم

۸

جیتے ہیں اور روتے ہیں لخت جگر ہے میرؔکرتے سنا ہے یوں کوئی قیمہ جگر کہ ہم

۱۶۵ / ۵۸۲