کلامِ میرردیف ن
اس کے کوچے سے جو اٹھ اہل وفا جاتے ہیں
۱
اس کے کوچے سے جو اٹھ اہل وفا جاتے ہیںتا نظر کام کرے رو بقفا جاتے ہیں
۲
متصل روتے ہی رہیے تو بجھے آتش دلایک دو آنسو تو اور آگ لگا جاتے ہیں
۳
وقت خوش ان کا جو ہم بزم ہیں تیرے ہم تودر و دیوار کو احوال سنا جاتے ہیں
۴
جائے گی طاقت پا آہ تو کریے گا کیااب تو ہم حال کبھو تم کو دکھا جاتے ہیں
۵
ایک بیمار جدائی ہوں میں آپھی تس پرپوچھنے والے جدا جان کو کھا جاتے ہیں
۶
غیر کی تیغ زباں سے تری مجلس میں تو ہمآ کے روز ایک نیا زخم اٹھا جاتے ہیں
۷
عرض وحشت نہ دیا کر تو بگولے اتنیاپنی وادی پہ کبھو یار بھی آ جاتے ہیں
۸
میرؔ صاحب بھی ترے کوچے میں شب آتے ہیں لیکجیسے دریوزہ گری کرنے گدا جاتے ہیں
۱۶۶ / ۵۸۲