کلامِ میرردیف ن
آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میں
۱
آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میںپیشانی پر ہے قشقہ زنار ہے کمر میں
۲
نازک بدن ہے کتنا وہ شوخ چشم دلبرجان اس کے تن کے آگے آتی نہیں نظر میں
۳
سینے میں تیر اس کے ٹوٹے ہیں بے نہایتسوراخ پڑ گئے ہیں سارے مرے جگر میں
۴
آئندہ شام کو ہم رویا کڑھا کریں گےمطلق اثر نہ دیکھا نالیدن سحر میں
۵
بے سدھ پڑا رہوں ہوں اس مست ناز بن میںآتا ہے ہوش مجھ کو اب تو پہر پہر میں
۶
سیرت سے گفتگو ہے کیا معتبر ہے صورتہے ایک سوکھی لکڑی جو بو نہ ہو اگر میں
۷
ہمسایۂ مغاں میں مدت سے ہوں چنانچہاک شیرہ خانے کی ہے دیوار میرے گھر میں
۸
اب صبح و شام شاید گریے پہ رنگ آوےرہتا ہے کچھ جھمکتا خوناب چشم تر میں
۹
عالم میں آب و گل کے کیونکر نباہ ہوگااسباب گر پڑا ہے سارا مرا سفر میں
۱۶۷ / ۵۸۲