کلامِ میرردیف ن

آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں

۱

آرزوئیں ہزار رکھتے ہیںتو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیں

۲

برق کم حوصلہ ہے ہم بھی تودل کو بے قرار رکھتے ہیں

۳

غیر ہی مورد عنایت ہےہم بھی تو تم سے پیار رکھتے ہیں

۴

نہ نگہ نے پیام نے وعدہنام کو ہم بھی یار رکھتے ہیں

۵

ہم سے خوش زمزمہ کہاں یوں تولب و لہجہ ہزار رکھتے ہیں

۶

چوٹٹے دل کے ہیں بتاں مشہوربس یہی اعتبار رکھتے ہیں

۷

پھر بھی کرتے ہیں میرؔ صاحب عشقہیں جواں اختیار رکھتے ہیں

۱۶۸ / ۵۸۲