کلامِ میرردیف ن

آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں

۱

آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاںمہلت ہمیں بسان شرر کم بہت ہے یاں

۲

یک لحظہ سینہ کوبی سے فرصت ہمیں نہیںیعنی کہ دل کے جانے کا ماتم بہت ہے یاں

۳

حاصل ہے کیا سواے ترائی کے دہر میںاٹھ آسماں تلے سے کہ شبنم بہت ہے یاں

۴

مائل بہ غیر ہونا تجھ ابرو کا عیب ہےتھی زور یہ کماں ولے خم چم بہت ہے یاں

۵

ہم رہروان راہ فنا دیر رہ چکےوقفہ بسان صبح کوئی دم بہت ہے یاں

۶

اس بت کدے میں معنی کا کس سے کریں سوالآدم نہیں ہے صورت آدم بہت ہے یاں

۷

عالم میں لوگ ملنے کی گوں اب نہیں رہےہر چند ایسا ویسا تو عالم بہت ہے یاں

۸

ویسا چمن سے سادہ نکلتا نہیں کوئیرنگینی ایک اور خم و چم بہت ہے یاں

۹

اعجاز عیسوی سے نہیں بحث عشق میںتیری ہی بات جان مجسم بہت ہے یاں

۱۰

میرے ہلاک کرنے کا غم ہے عبث تمہیںتم شاد زندگانی کرو غم بہت ہے یاں

۱۱

دل مت لگا رخ عرق آلود یار سےآئینے کو اٹھا کہ زمیں نم بہت ہے یاں

۱۲

شاید کہ کام صبح تک اپنا کھنچے نہ میرؔاحوال آج شام سے درہم بہت ہے یاں

۱۶۹ / ۵۸۲