کلامِ میرردیف ن

آہ اور اشک ہی سدا ہے یاں

۱

آہ اور اشک ہی سدا ہے یاںروز برسات کی ہوا ہے یاں

۲

جس جگہ ہو زمین تفتہ سمجھکہ کوئی دل جلا گڑا ہے یاں

۳

گو کدورت سے وہ نہ دیوے روآرسی کی طرح صفا ہے یاں

۴

ہر گھڑی دیکھتے جو ہو ایدھرایسا کہ تم نے آ نکلا ہے یاں

۵

رند مفلس جگر میں آہ نہیںجان محزوں ہے اور کیا ہے یاں

۶

کیسے کیسے مکان ہیں ستھرےاک ازاں جملہ کربلا ہے یاں

۷

اک سسکتا ہے ایک مرتا ہےہر طرف ظلم ہو رہا ہے یاں

۸

صد تمنا شہید ہیں یکجاسینہ کوبی ہے تعزیہ ہے یاں

۹

دیدنی ہے غرض یہ صحبت شوخروز و شب طرفہ ماجرا ہے یاں

۱۰

خانۂ عاشقاں ہے جاے خوبجائے رونے کی جا بہ جا ہے یاں

۱۱

کوہ و صحرا بھی کر نہ جائے باشآج تک کوئی بھی رہا ہے یاں

۱۲

ہے خبر شرط میرؔ سنتا ہےتجھ سے آگے یہ کچھ ہوا ہے یاں

۱۳

موت مجنوں کو بھی یہیں آئیکوہ کن کل ہی مر گیا ہے یاں

۱۷۰ / ۵۸۲