کلامِ میرردیف ن
اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں
۱
اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیںنہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں
۲
جو بے اختیاری یہی ہے تو قاصدہمیں آ کے اس کے قدم دیکھتے ہیں
۳
گہے داغ رہتا ہے دل گا جگر خوںان آنکھوں سے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں
۴
اگر جان آنکھوں میں اس بن ہے تو ہمابھی اور بھی کوئی دم دیکھتے ہیں
۵
لکھیں حال کیا اس کو حیرت سے ہم توگہے کاغذ و گہہ قلم دیکھتے ہیں
۶
وفا پیشگی قیس تک تھی بھی کچھ کچھاب اس طور کے لوگ کم دیکھتے ہیں
۷
کہاں تک بھلا روؤ گے میرؔ صاحباب آنکھوں کے گرد اک ورم دیکھتے ہیں
۱۷۱ / ۵۸۲