کلامِ میرردیف ن

بزم میں جو ترا ظہور نہیں

۱

بزم میں جو ترا ظہور نہیںشمع روشن کے منہ پہ نور نہیں

۲

کتنی باتیں بنا کے لاؤں ایکیاد رہتی ترے حضور نہیں

۳

خوب پہچانتا ہوں تیرے تئیںاتنا بھی تو میں بے شعور نہیں

۴

قتل ہی کر کہ اس میں راحت ہےلازم اس کام میں مرور نہیں

۵

فکر مت کر ہمارے جینے کاتیرے نزدیک کچھ یہ دور نہیں

۶

پھر جئیں گے جو تجھ سا ہے جاں بخشایسا جینا ہمیں ضرور نہیں

۷

عام ہے یار کی تجلی میرؔخاص موسیٰ و کوہ طور نہیں

۱۷۲ / ۵۸۲