کلامِ میرردیف ن

ایک پرواز کو بھی رخصت صیاد نہیں

۱

ایک پرواز کو بھی رخصت صیاد نہیںورنہ یہ کنج قفس بیضۂ فولاد نہیں

۲

شیخ عزلت تو تہ خاک بھی پہنچے گی بہممفت ہے سیر کہ یہ عالم ایجاد نہیں

۳

داد لے چھوڑوں میں صیاد سے اپنی لیکنضعف سے میرے تئیں طاقت فریاد نہیں

۴

کیوں ہی معذور بھی رکھ یوں تو سمجھ دل میں شیخیہ قدح خوار مرے قابل ارشاد نہیں

۵

بے ستوں بھی ہے وہی اور وہی جوئے شیرتھا نمک شہرت شیریں کا سو فرہاد نہیں

۶

کیا کہوں میرؔ فراموش کیا ان نے تجھےمیں تو تقریب بھی کی پر تو اسے یاد نہیں

۱۷۴ / ۵۸۲