کلامِ میرردیف ن

جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں

۱

جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیںبھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

۲

تری گلی سے سدا اے کشندۂ عالمہزاروں آتی ہوئی چارپائیاں دیکھیں

۳

گیا نظر سے جو وہ گرم طفل آتش بازہم اپنے چہرے پہ اڑتی ہوائیاں دیکھیں

۴

ترے وصال کے ہم شوق میں ہوں آوارہعزیز دوست سبھوں کی جدائیاں دیکھیں

۵

ہمیشہ مائل آئینہ ہی تجھے پایاجو دیکھیں ہم نے یہی خود نمائیاں دیکھیں

۶

شہاں کہ کحل جواہر تھی خاک پا جن کیانہیں کی آنکھوں میں پھرتے سلائیاں دیکھیں

۷

بنی نہ اپنی تو اس جنگ جو سے ہرگز میرؔلڑائیں جب سے ہم آنکھیں لڑائیاں دیکھیں

۱۷۶ / ۵۸۲