کلامِ میرردیف ن
جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں
۱
جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میںگرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میں
۲
ضبط گریہ نے جلایا ہے درونہ سارادل اچنبھا ہے کہ ہے سوختہ تر پانی میں
۳
آب شمشیر قیامت ہے برندہ اس کییہ گوارائی نہیں پاتے ہیں ہر پانی میں
۴
طبع دریا جو ہو آشفتہ تو پھر طوفاں ہےآہ بالوں کو پراگندہ نہ کر پانی میں
۵
غرق آب اشک سے ہوں لیک اڑا جاتا ہوںجوں سمک گو کہ مرے ڈوبے ہیں پر پانی میں
۶
مردم دیدۂ تر مردم آبی ہیں مگررہتے ہیں روز و شب و شام و سحر پانی میں
۷
ہیئت آنکھوں کی نہیں وہ رہی روتے روتےاب تو گرداب سے آتے ہیں نظر پانی میں
۸
گریۂ شب سے بہت آنکھ ڈرے ہے میریپاؤں رکتے ہی نہیں بار دگر پانی میں
۹
فرط گریہ سے ہوا میرؔ تباہ اپنا جہازتختہ پارے گئے کیا جانوں کدھر پانی میں
۱۷۷ / ۵۸۲