کلامِ میرردیف ن

تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں

۱

تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوںہوئے ہیں دل جگر بھی سامنے رستم ہیں یہ دونوں

۲

نہ کچھ کاغذ میں ہے تانے قلم کو درد نالوں کالکھوں کیا عشق کے حالات نامحرم ہیں یہ دونوں

۳

لہو آنکھوں سے بہتے وقت رکھ لیتا ہوں ہاتھوں کوجراحت ہیں اگر وے دونوں تو مرہم ہیں یہ دونوں

۴

کسو چشمے پہ دریا کے دیا اوپر نظر رکھیےہمارے دیدۂ نم دیدہ کیا کچھ کم ہیں یہ دونوں

۵

لب جاں بخش اس کے مار ہی رکھتے ہیں عاشق کواگرچہ آب حیواں ہیں و لیکن سم ہیں یہ دونوں

۶

نہیں ابرو ہی مائل جھک رہی ہے تیغ بھی ادھرہمارے کشت و خوں میں متفق باہم ہیں یہ دونوں

۷

کھلے سینے کے داغوں پر ٹھہر رہتے ہیں کچھ آنسوچمن میں مہر ورزی کے گل و شبنم ہیں یہ دونوں

۸

کبھو دل رکنے لگتا ہے جگر گاہے تڑپتا ہےغم ہجراں میں چھاتی کے ہماری جم ہیں یہ دونوں

۹

خدا جانے کہ دنیا میں ملیں اس سے کہ عقبیٰ میںمکاں تو میرؔ صاحب شہرۂ عالم ہیں یہ دونوں

۱۷۸ / ۵۸۲