کلامِ میرردیف ن

جہاں اب خار زاریں ہو گئی ہیں

۱

جہاں اب خار زاریں ہو گئی ہیںیہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیں

۲

جنوں میں خشک ہو رگ ہائے گردنگریباں کی سی تاریں ہو گئی ہیں

۳

سنا جاتا ہے شہر عشق کے گردمزاریں ہی مزاریں ہو گئی ہیں

۴

اسی دریاے خوبی کا ہے یہ شوقکہ موجیں سب کناریں ہو گئی ہیں

۵

انہیں گلیوں میں جب روتے تھے ہم میرؔکئی دریا کی دھاریں ہو گئی ہیں

۱۷۹ / ۵۸۲