کلامِ میرردیف ن

جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں

۱

جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیںوے روگ اپنے جی کو ناحق بساہتے ہیں

۲

اس میکدے میں ہم بھی مدت سے ہیں ولیکنخمیازہ کھینچتے ہیں ہر دم جماہتے ہیں

۳

ناموس دوستی سے گردن بندھی ہے اپنیجیتے ہیں جب تلک ہم تب تک نباہتے ہیں

۴

سہل اس قدر نہیں ہے مشکل پسندی میریجو تجھ کو دیکھتے ہیں مجھ کو سراہتے ہیں

۵

وے دن گئے کہ راتیں نالوں سے کاٹتے تھےبے ڈول میرؔ صاحب اب کچھ کراہتے ہیں

۱۸۰ / ۵۸۲