کلامِ میرردیف ن

خوش قداں جب سوار ہوتے ہیں

۱

خوش قداں جب سوار ہوتے ہیںسرو و قمری شکار ہوتے ہیں

۲

تیرے بالوں کے وصف میں میرےشعر سب پیچ دار ہوتے ہیں

۳

آؤ یاد بتاں پہ بھول نہ جاؤیہ تغافل شعار ہوتے ہیں

۴

دیکھ لیویں گے غیر کو تجھ پاسصحبتوں میں بھی یار ہوتے ہیں

۵

صدقے ہو لیویں ایک دم تیرےپھر تو تجھ پر نثار ہوتے ہیں

۶

تو کرے ہے قرار ملنے کاہم ابھی بے قرار ہوتے ہیں

۷

ہفت اقلیم ہر گلی ہے کہیںدلی سے بھی دیار ہوتے ہیں

۸

رفتہ رفتہ یہ طفل خوش ظاہرفتنۂ روزگار ہوتے ہیں

۹

اس کے نزدیک کچھ نہیں عزتمیرؔ جی یوں ہی خوار ہوتے ہیں

۱۸۱ / ۵۸۲