کلامِ میرردیف ن

خوش نہ آئی تمہاری چال ہمیں

۱

خوش نہ آئی تمہاری چال ہمیںیوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں

۲

حال کیا پوچھ پوچھ جاتے ہوکبھو پاتے بھی ہو بحال ہمیں

۳

وہ دہاں وہ کمر ہی ہے مقصوداور کچھ اب نہیں خیال ہمیں

۴

اس مہ چاردہ کی دوری نےدس ہی دن میں کیا ہلال ہمیں

۵

نظر آتے ہیں ہوتے جی کے وبالحلقہ حلقہ تمہارے بال ہمیں

۶

تنگی اس جا کی نقل کیا کریےیاں سے واجب ہے انتقال ہمیں

۷

صرف للہ خم کے خم کرتےنہ کیا چرخ نے کلال ہمیں

۸

مغ بچے مال مست ہم درویشکون کرتا ہے مشت مال ہمیں

۹

کب تک اس تنگنا میں کھینچیے رنجیاں سے یا رب تو ہی نکال ہمیں

۱۰

ترک سبزان شہر کریے اببس بہت کر چکے نہال ہمیں

۱۱

وجہ کیا ہے کہ میرؔ منہ پہ ترےنظر آتا ہے کچھ ملال ہمیں

۱۸۲ / ۵۸۲