کلامِ میرردیف ن
خوبرو سب کی جان ہوتے ہیں
۱
خوبرو سب کی جان ہوتے ہیںآرزوئے جہان ہوتے ہیں
۲
گوشۂ دیوار تک تو جا نالےاس میں گل کو بھی کان ہوتے ہیں
۳
کبھو آتے ہیں آپ میں تجھ بنگھر میں ہم میہمان ہوتے ہیں
۴
دشت کے پھوٹے مقبروں پہ نہ جاروضے سب گلستاں ہوتے ہیں
۵
حرف تلخ ان کے کیا کہوں میں غرضخوبرو بد زبان ہوتے ہیں
۶
غمزۂ چشم خوش قدان زمیںفتنۂ آسمان ہوتے ہیں
۷
کیا رہا ہے مشاعرے میں ابلوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں
۸
میرؔ و مرزا رفیعؔ و خواجہ میرؔکتنے اک یہ جوان ہوتے ہیں
۱۸۳ / ۵۸۲